اداریہ

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!

معروف تحقیقی  و تدریسی ادارہ شیخ زاید اسلامك سنٹر كا  ششماہی مجلہ "الایضاح" (جنوری – جون 2020ء)   بفضل خدا  شائع ہو چکا ہے۔ 1993 میں اپنے باقاعدہ افتتاح سے لے كر اب تك شیخ زاید سنٹر مختلف پروگرامز کے ذریعے بالخصوص  اہالیان پشاور اور بالعموم اہل پاكستان  كی رہنمائی كرتا رہا ہے ، اپنے تحقیقی پروجیكٹس میں ادارہ نے  عصرِ حاضر کے ابھرتے ہوئے چیلنجز ، ان کے پاکستان پر، خطے اور باقی دنیا پر اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اس شمارے كی خاص بات یہ ہے كہ   ہائیر ایجوكیشن كمیشن نے اپنی حالیہ میٹنگ منعقدہ 6 فروری 2020 میں  مجلہ "الایضاح" كو  ایك درجہ ترقی دیتے ہوئے  اسے "ایكس" درجہ میں تسلیم كر لیا ہے ،  یہ خبر جہاں مجلہ "الایضاح" كے مدیران ومعاونین كے لئے فخر و  حوصلہ افزائی كا باعث ہے وہیں  قارئین و  محققین كے لئے بھی  خوشی كا   سبب ہے۔  یہ تمام سفر محققین  كے تحقیقی تعاون كے بغیر ہرگز ممكن نہ تھا۔

  آج کے جدید دور میں انسانیت کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کا تجزیہ کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے لئے سائنسی طریقہ کار کے تحت تحقیق اور مباحثوں نے بہت اہمیت حاصل کرلی ہے، اس كے ساتھ ساتھ  قرآن وتفسیر  ،حدیث و اصول حدیث ، فقہ و اصول فقہ  كی جدید مباحث پر بھی خامہ فرسائی ضروری ہے ، الایضاح كے حالیہ مجلہ میں انہی  مباحث و تحقیقات كو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ یہ شمارہ بھی حسب سابق اردو ، عربی اور انگریزی زبان كے تحقیقی مقالات پر  مشتمل ہے  جس میں  وطن عزیز  كے محققین كے مقالات كے ساتھ ساتھ ایك بڑی تعداد میں بین الاقوامی اہل علم و دانش  کے علمی اور تحقیقی مقالات  عمیق انداز  میں  چھان بین، تحقیقی جائزہ    اور خارجی تبصروں   كی روشنی میں  ہائر ایجو کیشن کمیشن آف پاکستان کے مجوّزہ سٹینڈرڈز کے مطابق مرتب کئے گئے ہیں تا کہ اِسے عالمی معیار کا بہترین تحقیقی جریدہ بنایا جا سکے۔

امید ہے کہ اس جریدے میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالہ جات محققین كے لئے تحقیق كے نئے در وا كریں گے ، اور انہیں نئی جہات سے روشناس كروائیں گے، محققین  کی طرف سے موصول ہونے والے مقالات میں سے معیاری مقالات کا انتخاب ہمارے لیے بھی امتحان ہوتا ہے اور ماہرین کے لیے بھی۔ جیسا کہ اس شمارے کے لیے بھاری تعداد میں ملكی و بین الاقوامی سطح كے  تحقیقی  مقالات  موصول ہوئے تھے لیکن اس میں سے صرف  17  مقالات منتخب کیے جاسکے، جو آپ كی خدمت میں پیش كر دئے گئے ہیں ۔جن میں سے عربی كے (7) ، اردو كے  (4) اور انگریزی كے (6) مقالات شامل ہیں۔

مجلہ كا پہلا تحقیقی مقالہ  افغان یونیورسٹی  كابل (افغانستان) كے  وی – سی  ڈاكٹر نصر من اللہ صاحب كا

" قواعد الترجيح التفسيرية المتعلقة بلغة العرب عند الشيخ القنوجي "

سے متعلق ہے ،  جس میں محقق نے شیخ صدیق حسن قنوجی رحمہ اللہ نے  كی  تفسیر  " فتح البیان في مقاصد القرآن " میں تعارض اقوال كی صورت میں   مختلف قواعد ترجیح كی طرف التفات ركھا ہے ،  خصوصاً ان قواعد كو زیر بحث لایا ہے جو عربی لغت و گرامر سے متعلق ہیں ۔اس كے ساتھ ساتھ شیخ قنوجی كے منہج كو بھی  پركھا گیا ہے كہ وہ كس حد تك اپنی رائے میں درست ثابت ہوئے ہیں ۔

دوسرا مقالہ  اسلامك یونیورسٹی كی لیكچرر  ڈاكٹر رابعہ نور كا

" ترجيحات الإمام المودودي -رحمه الله- في تفسيره تفهيم القرآن"

سے متعلق ہے ، جس میں  فاضل محققہ نے مولانا مودودی کی تفسیر "تفہیم القرآن" کی سورة بقرة  میں ذكر كئے گئے اقوال میں تعارض كی صورت میں چند ترجیحات كو  بطور نمونہ پیش کیا  ہے ، چاہے وہ کسی لفظ کے معنی سے متعلق ہو یا مکمل آیت کے معنی سے متعلق ہو۔اور قواعد ترجیح کی روشنی میں راجح رائے کی نشاندہی کی  گئی ہے۔

تیسرا مقالہ   ڈاكٹر  محمد عمران و ڈاكٹر  انور كی مشتركہ كاوش كا نتیجہ ہے جو  كہ

" أوهام الإمام سفيان بن عيينة في الأسانيد"

سے متعلق ہے ، مذكورہ مقالہ میں محققین نے  امام سفیان بن عیینہ كے اسانید  حدیث میں واقع اوہام و اغلاط كی نشاندہی كی ہے ۔

چوتھا مقالہ  ڈاكٹر احسان اللہ صاحب اور پروفیسر ڈاكٹر تاج الدین  أزہری صاحب  كا ہے جو كہ

" عقوبة التعدي على الأنفس وأثرهافي استتباب الأمن"

سے متعلق ہے ، جس میں انہوں نے اسلام  كی  انسانی نفس كی حفاظت  كیلئے  سزاؤں پر تفصیلی بحث كی ہے۔اور ثابت كیا ہے كہ اگر مسلم سوسائٹی معاشرے میں اسلامی سزاؤں كو نافذكریں تو یقینا اس معاشرے كو امن کی ضمانت مل جاتی ہے۔

اگلا مقالہ  ضوفر یونیورسٹی  -  سلطنت عمان كے پروفیسر  ڈاكٹر حسین احمد علوی كا

"قول الصحابي عند الإمام الشافعي "

 سے متعلق ہے ،  جس میں فاضل محقق نے   اصول فقہ كی اہم ترین مبحث "قول صحابی" كے بارے میں امام شافعی كے موقف كو واضح كیا ہے۔

اگلا مقالہ  سعودی عرب كی  امام عبد الرحمن بن فیصل یونیورسٹی كے پروفیسر  ڈاكٹر  محمد عبد الرزاق الأسود كا ہے جس كا عنوان

"علاج مشكلات اللجوء في ضوء لجوء الصحابة"

ہے ، جس میں موصوف محقق نے  صحابہ كرام كی سیرت كو موضوع بحث بنا كر  مسلمانوں كو مشكلات سے نكالنے كا علاج واضح كیا ہے۔

اسلامی عقائد میں  "لوح محفوظ " سے متعلق مباحث ابتداء سے ہی معركہ الآراء موضوعات رہے ہیں ، اسی موضوع كو زیر بحث لا كر "اللوح المحفوظ"   فلسطین كی جامعہ غزہ كے پروفیسر ڈاكٹر حسن نصر بظاظو نے  داد تحقیق سمیٹی ہے۔

حصہ اردو میں جامعہ عبد الولی خان مردان كے  پروفیسر ڈاكٹر ابظاہر خان  اور ریسرچ سكالر محمد ایوب نے

"فلاحی ریاست میں عہدہ داروں کے چناؤکا معیار"

  میں سیرت طیبہ كی روشنی میں ان معیارات كو بخوبی زیر بحث لایا ہے، اور عہد ہ داروں کے تقرر کا طریقہ کار شریعت اسلامی کی رو سے زیر بحث لایا گیا ہے۔

اگلا مقالہ  جامعہ ملاكنڈ كے ریسرچ سكالر  ثناء اللہ  كی تحقیق ہے جو كہ

" تقیہ" كی اصطلاح اور علامہ آلوسی كا مؤقف"

 كے عنوان پر مشتمل ہے ،  جس میں انہوں نے علامہ ألوسی كی   مشہور تفسیر  روح المعانی سے ان كے موقف كو سامنے لایا ہے۔

قرآن مجید احکام و عقائد کے ساتھ ساتھ عربی زبان اور بلاغت کا ایک حیران کن شاہکار ہے۔اگلا مقالہ اسی موضوع سے متعلق جامعہ پشاور كے شعبہ عربی كے ریسرچ سكالر سلیم خان صاحب اور  شعبہ عربی كے پروفیسر ڈاكٹر سید الحسنات  كی تحقیقی كاوش بعنوان

 "قرآن مجید میں ”أمثال کامنہ“ کی حیثیت "

ہے جس میں انہوں نے  قرآن كریم میں امثال كامنہ كی حیثیت پر بحث كی ہے۔

معروف محقق ڈاكٹر سید باچہ آغہ صاحب نے

"دینی مدارس میں عصری علوم اورانگریزی زبان کی تعلیم کا جائزہ"

كے عنوان كے تحت دینی مدارس كی اس بابت  كی گئی  سرگرمیوں پر  داد تحقیق سمیٹی ہے۔

حصہ انگریزی كے مقالات میں گومشان یونیورسٹی – تركی  كے فاضل پر وفیسر ڈاكٹر عالم خان نے 

"Dating of Isnād and Western Scholarship,"

 كے تحت  سند حدیث سے متعلق جدید استشراقی فكر كو موضوع بحث بنایا ہے۔اس مقالہ میں اسناد کے ظہور کی تاریخ اور مستشرقین کے نظریات کا مستند تاریخی حقائق کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔

اگلا تحقیقی مقالہ   بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد كے  لیكچرر حمید اللہ رضوان كی تحقیقی كاوش ہے جس میں انہوں نے 

" Shaybānī’s Notion of Authority of Awarding Amān"

 كے عنوان كے تحت  بحث كی ہے ،  بین الاقوامی اسلامی قانون غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہے اسی تناظر میں بین الاقوامی اسلامی قانون کے بانی محمد بن الحسن الشیبانی كے موقف كو زیر بحث لایا گیا ہے كہ اگر غیر مسلموں نے امان طلب کی تو مسلمانوں پر امان دینا لازم ہے ۔

اگلا تحقیقی موضوع بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد كے پروفیسر ڈاكٹر عطاء اللہ وٹو اور غفران صاحب كا ہے جو كہ 

" The Role Of Islamic Courts In Land Reforms In Pakistan"

 كے عنوان كے تحت ہے، جس میں انہوں نے پاکستان میں ملکیت زمین کی اصلاحات میں اسلامی عدالتوں کا کردار كے اوپر سیر حاصل  تحقیق كی ہے ، اور اس ضمن میں اسلامی عدالتوں کے نتائج کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

فرانس میں پچھلی چند دہائیوں سے فرانسیسی حکومت نے ایسے قوانین پاس کیے جن کا مقصد عوامی مقامات پر مذہبی علامات کا استعمال ختم کرنا ہے۔  مذكورہ مقالہ میں پروفیسر ڈاكٹر  عامر رضا اور پروفیسر ڈاكٹر رشید احمد صاحب نے 

" Islamic Headscarf Controversy in France"

كے عنوان كے تحت فرانسیسی حکومت  كے اسکولوں میں حجاب اوڑھنے پر پابندی كے بارے میں تحقیق كی ہے یہ آرٹیکل ان  اختلافات کی تاریخی پس منظر، طرفین کے دلائل اور حجاب کے مذہبی حوالوں پر بحث کرتا ہے۔

اگلا تحقیقی مقالہ

"The Role of Traditional Elders in the Establishment of the law and order in FATA, PAKISTAN"

 كے عنوان كے تحت  زرعی یونیورسٹی كے پروفیسر ڈاكٹر انتخاب عالم اور جامعہ پشاور كے  شاہد اقبال صاحب كا ہے جس میں انہوں نے  فاٹا میں قانون كی پاسداری كروانے میں بزرگان قوم كے كردار پر تحقیق كی ہے۔

حصہ انگریزی  میں سے آخری مقالہ 

"A Comparative Study of Western and Islamic Concept of Human Rights:"

كے عنوان كے تحت  پروفیسر ڈاكٹر عبد المنان صاحب نے   انسانی حقوق كے متعلق  مغربی اور  اسلامی موقف كا مقارنہ كیا ہے۔

مقالات کا انتخاب خالص معیار کو مدنظر رکھ کر کیا گیا  ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ موضوعات میں تنوع اور جدت کو برقرار رکھا جائے۔  امید ہے کہ الایضاح کا یہ شمارہ بھی اہل علم کو ضرور پسند آئے گا۔

الایضاح کا مقصد متعلقہ امور  پر مکمل آزادی کے ساتھ تحقیق اور بحث ومباحثہ کرنا اور غیر جانبدرانہ تجزیوں کی  روشنی میں مختلف دینی وقومی  معاملات میں لائحہ عمل پیش کرنا ہے ، تاکہ مقننہ ، عدلیہ، انتظامیہ  اور دوسرے ریاستی ادارے ان تحقیقات کی روشنی میں ملک وقوم کے مفاد میں پالیسی سازی کے لیے  رہنمائی لےسکیں۔

مجلس ادارت  اپنے ان تما م مقالہ نگاروں اور الایضاح کی تیاری میں علمی او ر تکنیکی لحاظ سے معاونت کرنے والے افراد کا مشکور ہے  ۔ جنہوں نے اس علمی کام میں اپنا حصہ ڈالا  اور امید کرتے ہیں کہ ان کا یہ تعاون ہمارے ساتھ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ 

مجلس ادارت مجلہ کے بارے میں قارئین کرام کی آراء کو اہمیت دیتی ہے  اور اس کے علمی او رفنی معیار کو بہتر سے بہترین کی تلاش  میں  تنقیدی آراءاور مفید مشوروں  کا  خیر مقدم کرتی ہے ۔

 

 

                                                                                                                                ایڈیٹر  "الایضاح"

                                                                                                                        پروفیسر ڈاكٹر رشاد احمد سلجوق

 

Published: 2020-04-13

Articles